Thursday, February 03, 2011

The Raymond Davis Case

 

The Raymond Davis Case

 

The Big Question That Still Needs To Be Answered Is Whether He falls Under the Category of Diplomatic Agent Or Not, as Specified in Vienna Concention.

 

WordPress IconTwitter IconMySpace IconFacebook IconYouTube IconLinkedIn IconDigg Icon

 

Vienna Convention on Diplomatic Relations

1961
http://untreaty.un.org/ilc/texts/instruments/english/conventions/9_1_1961.pdf


 

Article 1

For the purpose of the present Convention, the following expressions shall have the meanings

hereunder assigned to them:

(a) The "head of the mission" is the person charged by the sending State with the duty of acting in

that capacity;

(b) The "members of the mission" are the head of the mission and the members of the staff of the

mission;

(c) The "members of the staff of the mission" are the members of the diplomatic staff, of the

administrative and technical staff and of the service staff of the mission;

(d) The "members of the diplomatic staff" are the members of the staff of the mission having

diplomatic rank;

(e) A "diplomatic agent" is the head of the mission or a member of the diplomatic staff of the

mission;

(f) The "members of the administrative and technical staff" are the members of the staff of the

mission employed in the administrative and technical service of the mission;

3

(g) The "members of the service staff" are the members of the staff of the mission in the domestic

service of the mission;

(h) A "private servant" is a person who is in the domestic service of a member of the mission and

who is not an employee of the sending State;

(i) The "premises of the mission" are the buildings or parts of buildings and the land ancillary

thereto, irrespective of ownership, used for the purposes of the mission including the residence of the

head of the mission.
 
IMMUNITY
 

Article 31

1.A diplomatic agent shall enjoy immunity from the criminal jurisdiction of the receiving State.

He shall also enjoy immunity from its civil and administrative jurisdiction, except in the case of:

(a) A real action relating to private immovable property situated in the territory of the receiving State,

unless he holds it on behalf of the sending State for the purposes of the mission;

(b) An action relating to succession in which the diplomatic agent is involved as executor,

administrator, heir or legatee as a private person and not on behalf of the sending State;

(c) An action relating to any professional or commercial activity exercised by the diplomatic agent in

the receiving State outside his official functions.

2.A diplomatic agent is not obliged to give evidence as a witness.

3.No measures of execution may be taken in respect of a diplomatic agent except in the cases

coming under subparagraphs (a), (b) and (c) of paragraph 1 of this article, and provided that the

measures concerned can be taken without infringing the inviolability of his person or of his residence.

4.The immunity of a diplomatic agent from the jurisdiction of the receiving State does not exempt

him from the jurisdiction of the sending State.

 

Vienna Convention on Consular Relations

1963
http://untreaty.un.org/ilc/texts/instruments/english/conventions/9_2_1963.pdf
 

Article 43

Immunity from jurisdiction

1.Consular officers and consular employees shall not be amenable to the jurisdiction of the

judicial or administrative authorities of the receiving State in respect of acts performed in the exercise of

consular functions.

2.The provisions of paragraph 1 of this article shall not, however, apply in respect of a civil

action either:

18

(a) arising out of a contract concluded by a consular officer or a consular employee in which he did

not contract expressly or impliedly as an agent of the sending State; or

(b) by a third party for damage arising from an accident in the receiving State caused by a vehicle,

vessel or aircraft.
 
 
RAYMOND DAVIS PASSPORT RaymondDavisPassport1.jpg
RaymondDavis-DiploAssignment.jpg
 
 
 
Jeff Stein in The Washington Post seemed to suggest rather fancifully that the shootout could have been a "Spy rendezvous gone bad?"
 
 
 
 
NADEEM MALIK

NADEEM MALIK پاکستان کا کہناہے کہ ریمنڈڈیوس کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، اس لئے اس پر کوئی تبصرہ یارائے نہیں دی جاسکتی ،عدالت جوبھی فیصلہ کرے گی اس کا احترام کیا جائے گا. امریکی سفارتخانے نے ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ریمنڈڈیوس کی گرفتاری غیر قانونی اورویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے

پاکستان کا کہناہے کہ ریمنڈڈیوس کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، اس لئے اس پر کوئی تبصرہ یارائے نہیں دی جاسکتی ،عدالت جوبھی فیصلہ کرے گی اس کا احترام کیا جائے گا. امریکی سفارتخانے نے ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ریمنڈڈیوس کی گر...
· Share · Promote

 
 
 

 
 
 
 
دوہرے قتل کے الزام میں گرفتار امریکی، ریمنڈ ڈیوس کے حوالے سے تناؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ کیا یہ تناؤ دونوں ممالک کے درمیان تصادم کی شکل اختیار کرسکتا ہے؟ کیا امریکہ اپنے ایک شہری کو بچانے کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے؟ کیا دنیا کی سب سے طاقتور اور خون آشام ریاست، اسے پاکستان کو ایک سبق سکھانے کا جواز بنا سکتی ہے؟کیا پاکستان ہمہ پہلو دباؤ کا مقابلہ کرسکے گا؟ کیا وفاقی حکومت پورے عزم کے ساتھ حکومت پنجا ب کے ساتھ کھڑی ہوجائے گی؟
ریمنڈ ڈیوس کی بدنصیبی یہ ہے کہ قتل کی یہ واردات لاہور میں ہوئی۔ معاملہ پنجاب اور شہباز شریف سے آپڑا۔ اگر یہ واقعہ اسلام آباد یا وفاقی حکومت کے براہ راست زیر اثر علاقے میں پیش آیا ہوتا تو صورت حال قطعی مختلف ہوتی۔ میں یہ بات کسی بدگمانی یا قیاس آرائی نہیں، ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ گزشتہ برس ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے دو سفارتکار اسلام آباد کے ایک ناکے پر پکڑے گئے۔ ان کے پاس ہینڈ گرنیڈز، جدید ترین رائفلیں اور اسلحہ کی ایک کھیپ تھی۔ تھانہ سیکریٹریٹ میں ایف آئی آر کے بجائے ایک عمومی نوعیت کی شکایت درج ہوئی۔امریکی سفارتخانے کے ایک ملازم سنی کرسٹوفر نے معاملے میں براہ راست مداخلت کی۔ خبروں سے اندازہ ہوا کہ شاید ایک بڑا اسکینڈل سامنے آنے کو ہے کہ ڈنمارک، امریکیوں کو ممنوعہ اسلحہ کی فراہمی کا ایک ذریعہ بنا ہوا ہے۔ لیکن دو دنوں کے اندر اندر مطلع صاف ہوگیا۔ نہ کوئی مقدمہ درج ہوا، نہ تحقیق و تفتیش ہوئی نہ بات آگے بڑھی۔ اسلام آباد کے حکمرانوں نے گوروں کی خوشنودی خاطر کے لئے سب کچھ قالین کے نیچے چھپا دیا۔
یہ جون 2009ء کا ذکر ہے۔ پشاور سے آنے والی ایک ڈبل کیبن گاڑی کو اسلام آباد کی گولڑہ چیک پوسٹ پر روکا گیا۔ گاڑی رکنے کے بجائے تیزی سے کروٹ بدل کر آگے گزر گئی۔ پولیس نے اسے مشکوک خیال کرتے ہوئے اگلی چیک پوسٹ کو خبردار کردیا۔ جی نائن فور کے خیبر چوک پر گاڑی روک لی گئی۔ گاڑی سے تین امریکن برآمد ہوئے۔ انکے نام جیفری، جیفڈک اور جیمز بل بتائے گئے۔ بینڈک نامی ڈرائیور بھی امریکی تھا۔ ان سب نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور چہروں پر داڑھیاں تھیں۔ ان سے چار ایم ۔4 ، مشین گنیں اور چار نائن ایم ایم کے پسٹل برآمد ہوئے۔ فوراً پولیس کے حکام بالا اور سرکار کو آگاہ کیا گیا۔ فرمان جاری ہوا کہ انہیں عزت و احترام کے ساتھ رخصت کردو۔ کوئی ایف آئی آر درج ہوئی نہ باز پرس کی نوبت آئی نہ یہ پتہ چل سکا کہ افغانوں جیسا حلیہ رکھنے والے یہ اسلحہ بردار امریکی کس مشن پر تھے۔
یہ 5اگست 2009ء کا ذکر ہے۔ اسلام آباد پولیس کا انسپکٹر حاکم خان، اپنی بیوی کے ہمراہ ، اپنی گاڑی میں سوار امریکی سفارت خانے کے قریب بنی چیک پوسٹ کے سامنے سے گزر رہا تھا۔ ایک امریکی اہلکار جان آرسو نے گاڑی روک لی۔ وہ میاں بیوی کو بڑا بھلا کہنے اور گالیاں دینے لگا۔ پولیس انسپکٹر نے کہا…"آپ کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ ایک پبلک شاہراہ پر گاڑیاں روک کر چیک کرتے پھرو؟" امریکی نے اپنی کمر سے پسٹل نکالا اور انسپکٹر پر تانتے ہوئے کہا "میں کچھ بھی کرسکتا ہوں"۔ انسپکٹر حاکم خان نے واقعے کی باقاعدہ رپورٹ اپنے حکام بالا کو دی لیکن کوئی ایف آئی آر درج ہوئی نہ تحقیق و تفتیش کی ضرورت محسوس کی گئی۔
اس واقعے کے صرف ایک ہفتہ بعد، 12اگست 2009ء کو سفارتی انکلیو میں رہنے والا ایک نوجوان، اپنے دو دوستوں کے ہمراہ سوزوکی گاڑی میں امریکی سفارت خانے کے سامنے والی سڑک سے گزر رہا تھا۔ سڑک کے کنارے ایک امریکی جوڑا واک کررہا تھا۔ امریکی جوڑے نے کار روک کر لڑکوں سے تلخ کلامی کی۔ اس کی گاڑی کا سائیڈ مرر توڑ دیا۔ انہیں گالیاں دیں۔ تینوں نوجوانوں نے اس رویے پر احتجاج کیا۔ اس پر امریکیوں نے انہیں قریبی چیک پوسٹ پرموجود امریکی سیکورٹی گارڈز کے حوالے کردیا۔ وہ چالیس منٹ تک غیر قانونی حراست میں رکھے گئے۔ انہیں اس شرط پر رہائی ملی کہ وہ کبھی اس سڑک پر گاڑی نہیں چلائیں گے۔ کوئی شکایت، کوئی ایف آئی آر نہ کٹی۔
اس واقعے کہ دو ہفتے بعد 26اگست 2009ء کو دو امریکیوں نے شیل پٹرول پمپ سپر مارکیٹ کے مالک محسن بخاری کی گاڑی روک لی۔ معاملہ شاید ڈرائیونگ میں کسی بے احتیاطی کا تھا۔ امریکیوں نے تلخ کلامی کی۔ محسن بخاری کو پکڑ کر اس کے پٹرول پمپ لے آئے۔امریکی سفارتخانے کا ایک سیکورٹی اہلکار بھی وہاں پہنچ گیا۔ دیر تک خوف و ہراس کی کیفیت کے بعد محسن بخاری کی گلو خلاصی ہوئی۔ محسن پیپلزپارٹی کے سینیٹر نیر بخاری کا قریبی عزیز ہے لیکن معاملہ وہیں ٹھپ کردیا گیا۔
دو دن بعد 28اگست 2009ء کو کشمیر ہائی وے پر پشاور موڑ کے قریب اسلام آباد پولیس نے دو گاڑیوں کو روکا۔ ایک پراڈو تھی اور دوسری ڈبل کیبن۔ ان میں چار امریکن تشریف فرما تھے۔ چاروں کے پاس ایم۔4 رائفلیں تھیں اور ایمونیشن بھی۔ دونوں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس جعلی تھیں۔ چاروں نے بتایا کہ وہ امریکی فوجی ہیں۔ ان کے پاس اسلحے کا کوئی لائسنس تھا نہ سفارتخانے کا کوئی اجازت نامہ۔ ایک افغان باشندہ احمداللہ بھی ان کے ہمراہ تھا۔جس نے بتایا کہ وہ امریکی سفارت خانے میں قیام پذیر ہے۔ پولیس اہلکاروں نے اسلام آباد کے بڑوں کو اطلاع کی اور معاملہ وہیں ختم ہوگیا۔
اور یہ جون 2010 ء کا ذکر ہے۔ امریکی ریاست کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والا گیری بروکس فاکنر نامی ایک شخص چترال سے گرفتار ہوا۔ اس کی تلاشی لی گئی۔ ایک پسٹل، ایک خنجر، چالیس انچ لمبی تلوار اور اندھیرے میں دیکھنے والی خصوصی عینک برآمد ہوئی۔ اس نے بتایا کہ گزشتہ آٹھ برس کے دوران وہ سات بار پاکستان آچکا ہے۔ تمام حقائق اسلام آباد کے حاکموں کے علم میں لائے گئے۔ حکم صادر ہوا کہ شہنشاہ عالم پناہ کی بارگاہ اقدس سے تعلق رکھنے والے معزز مہمان کو عزت و احترام کے ساتھ امریکی سفارتخانے پہنچا دیا جائے۔
یہ اور اس طرح کے درجنوں دوسرے واقعات نے امریکیوں کے حوصلے بڑھا دیئے۔ جعلی پلیٹوں والی بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر جدید اسلحہ سمیت مٹر گشت کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ اسلام آباد ان کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ سیکڑوں مکانات اب ان کی تحویل میں ہیں اور وہ کسی بھی وقت کچھ بھی کرگزرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ریمنڈ ڈیوس کی بدنصیبی ہوئی کہ وہ لاہور میں پکڑا گیا۔ آن واحد میں وزیراعلیٰ شہباز شریف کو خبر دی گئی۔ ہدایت دو ٹوک اور واضح تھی…"مجھے قاتل کے نام اور قومیت سے کوئی غرض نہیں۔ اسے گرفتار کرو اور ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر قتل کا باضابطہ مقدمہ درج کرو۔ اسلام آباد یا کہیں سے بھی کوئی دباؤ آئے تو مجھے بتاؤ۔ اسی شام شہباز مقتولین کے گھروں میں پہنچے اور کہا۔ کسی پاکستانی کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ اگلے دن امریکی سفیر نے میاں نواز شریف کو فون کرکے واقعے پرمعذرت کی اور کہا۔ ریمنڈ ایک سفارتکار ہے ۔ اسے چھوڑ دیا جائے ۔ ہم امریکہ میں اس پر مقدمہ چلائیں گے"۔ نواز شریف نے مختصر سا جواب دیا۔ ایکسی لینسی! پوری پاکستانی قوم رنج و غم میں مبتلا ہے۔ معاملہ عدالتوں تک جاچکا ہے۔ آپ ہمارے نظام قانون و انصاف پر اعتماد کریں اور قانون کو اپنا راستہ لینے دیں۔
اگر ریمنڈ یہی کچھ اسلام آباد وفاقی حکومت کے حلقہ اثر میں کرتا تو وہ گرفتار ہوتا نہ مقدمہ چلتا۔ کم از کم ماضی کی وارداتیں یہی بتاتی ہیں۔ اب بھی خطرہ ہے کہ وفاقی حکومت یا دفتر خارجہ قانونی عمل پر اثر اندازنہ ہوں۔ انہیں چاہئے کہ سیاست سے بے نیاز ہو کہ اس معاملے کو قومی حوالے اور پاکستان کے نقطہ نظر سے دیکھیں۔ حکومت پنجاب کا بھرپور ساتھ دیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کے موقف اور حکمت عملی میں بال برابر فرق نہیں ہونا چاہئے کہ یہ صرف پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ کا معاملہ ہے۔
NADEEM MALIK
 


 
 
 
 
 
WordPress IconTwitter IconMySpace IconFacebook IconYouTube IconLinkedIn IconDigg Icon
 
-------------------------------------------------------------------
N A D E E M    M A L I K 
http://www.nadeemmalik.pk
Facebook  


NADEEM MALIK ندیم ملک

NADEEM MALIK LIVE

NADEEM MALIK LIVE

Nadeem Malik Live is a flagship current affairs programme of Samaa.TV. The programme gives independent news analysis of the key events shaping future of Pakistan. A fast paced, well rounded programme covers almost every aspect, which should be a core element of a current affairs programme. Discussion with the most influential personalities in the federal capital and other leading lights of the country provides something to audience to help them come out with their own hard hitting opinions.


Blog Archive