Wednesday, June 22, 2011

مولوی نواز شریف کی سوچ شکست کھارہی ہے، آج جرنیلوں سے نفرت اور سپاہی سے محبت کرنے والے کون ہیں، صدر زرداری

مولوی نواز شریف کی سوچ شکست کھارہی ہے، آج جرنیلوں سے نفرت اور سپاہی سے محبت کرنے والے کون ہیں، صدر زرداری
 
 
 
http://pakistanherald.com/Program/Islamabad-Tonight-June-21-2011-Nadeem-Malik-7208
 
http://awaztoday.com/playvideo.asp?pageId=15344
 


 

میرا بھائی بریگیڈئر علی خان بتیس سال سے فوج کا ملازم ہے کبھی کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی۔ ملک بشیر کی اسلام آباد ٹونائت میں گفتگو

ہمیں معلوم نہیں وہ کہاں ہے میرے بھائی کا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ملک بشیر

میرے بھائی کو اٹھائے ہوے تینتالیس روز گزر چکے ہیں۔ملک بشیر

میرے بھائی کی ریٹائرمنٹ میں صرف چند دن باقی رہ گئے ہیں۔ ملک بشیر

بتیس سال فوج کے خلاف کچھ نہیں کیا تو اب کیا کرے گا۔ ملک بشیر

میرے بھائی کو دنیا کے کئی ممالک میں پاکستان کا نمائندہ بنا کر بھیجا گیا۔ ملک بشیر

میرا بھائی بے گناہ ہے اسے رہا کیا جائے۔ ملک بشیر

آج تک میرے خاوند کے ساتھ میری بات نہیں کروائی گئی۔مسز علی خان

مجھے کہا گیا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں اور جلد گھر آ جایں گے۔ مسز علی خان

ہر نماز پڑھنے اور اللہ رسول کا نام لینے والے کو طالبان کہہ دیا جاتا ہے۔ مسز علی خان

فوجی قوانین کے مطابق کسی جرم میں بتیس دن کے اندر مقدمہ چلانا ہوتا ہے۔ عمران خان

ہم اپنے لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں قصور وار ہیں تو مقدمہ چلایں۔عمران خان

بے قصور لوگوں کو پکڑا اور مارا جا رہا ہے ایسا سلوک تو انگریز بھی نہیں کرتا تھا۔ عمران خان

ہمارے ملک کے غدار اور منافق اسے نقصان پہنچا رہے ہیں۔ عمران خان

پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں اڑسٹھ ارب روپے کا نقصان اٹحا چکا ہے۔ عمران خان

ہمیں صرف بیس ارب روپے کی امداد ملی جو الیٹ کلاس کی جیبوں میں جا چکی ہے۔ عمران خان

دہشت گردی جنگ ہماری فوج کو تباہ کر رہی ہے یہ دلدل ہے اس سے باہر آنا چاہئیے۔ عمران خان

ہم اپنی فوج سے وہ کام کروا رہے ہیں جو کسی اور کا ہے۔ عمران خان

امریکہ طالبان سے بات چیت کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں۔ عمران خان

میں سات سال سے کہہ رہا ہوں دہشت گردی کی جنگ کا حل فوجی نہیں ہے۔عمران خان

میں قبائلیوں اور حکومت کے درمیان مصالحت کروانے کی پیش کش کرتا ہوں۔ عمران خان

میرانشاہ میں پندرہ سو قبائلیوں نے ڈرون حملوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔ عمران خان

خود کش حملوں کا تعلق مزہب سے نہیں غیر ملکی تسلط سے ہے۔ عمران خان

امریکی ڈالروں اور این آر او کی وجہ سے حکومت چل رہی ہے۔ عمران خان

نواز شریف کو ایجنسیوں نے بنایا انہوں نے آئی ایس آئی سے پینتیس لاکھ روپے لئیے۔ عمران خان

نواز شریف نے این پیٹرسن کو جنرل کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع پر مبارکباد دی۔ عمران خان

نواز شریف تین سال سے نظام بچانے کے چکر میں حکومت بچا رہے تھے۔ عمران خان

این آر او کے غیر قانونی قرار دئیے جانے کے بعد مڈ ٹرم الیکشن ہونے چاہئیے تھے۔ عمران خان

ملک کے مسائل کا حل مڈ ٹرم الیکشن ہیں ہم حکومت ہٹاؤ ملک بچاؤ تحریک چلانے جا رہے ہیں۔ عمران خان

آئیندہ الیکش میں ملک کا نوجوان تحریک انصاف کا ساتھ دے گا اور ملک میں انقلاب لائے گا۔ عمران خان

 

Islamabad-Tonight-21st-June-201115344.jpgIslamabad-Tonight-21st-June-201115344.jpgvIslamabad-Tonight-21st-June-201115344.jpg
Islamabad-Tonight-21st-June-201115344.jpgIslamabad-Tonight-21st-June-201115344.jpgIslamabad-Tonight-21st-June-201115344.jpg
-http://www.zemtv.com/2011/06/21/islamabad-tonight-imran-khan-21st-june-2011/
http://www.awaztoday.com/playvideo.asp?pageId=15344ISLAMABAD TONIGHT
WITH NADEEM MALIK
21-06-2011
TOPIC- ARMY BRIG ALI KHAN ARRESTED
GUESTS- IMRAN KHAN, (BROTHER, WIFE OF BRIG ALI KHAN)
MALIK BASHIR KHAN BROTHER OF BRIG ALI KHAN said that his brother is serving in Pakistan military for last 32 years. He said that he has only few days left in his retirement. He said that his brother was picked by officials 43 days ago. He said that he only talked to his brother twice during this time. He said that his brother do not belong to any organization. He said that his brother was sent to many countries as ambassador of the Pakistan by the military. He appealed to the military officials to free his brother because he said that he is innocent of any charge.
MRS ALI KHAN said that she has not spoken to her husband ever since he is arrested. She said that any body that prays or follows Allah and hid messenger's commandments is called Taliban. She said that she is told that her husband is well and will return home soon.
IMRAN KHAN CHAIRMAN PTI said that according to military law no body can be detained more than 32 days. He said we are not treating our people right and punishing innocents. He said that innocent people are being arrested and killed and people were not treated like that during British rule. He said that hypocrite and traitors of the country are harming Pakistan. He said that Pakistan has suffered 68 billion dollars losses in the war against terrorism. He said that we only received 20 billion dollars in aid which has been transferred in the accounts of elite class of the country. He said that war against terrorism is destroying our army and this war is a quagmire. He said that we are using our military for a job we receive foreign money for. He said that if America can negotiate with Taliban why can't Pakistan. He said that he is persistent with his stance for last seven years that there is no military solution of the war against terrorism. He said that he offers himself as a mediator for reconciliation between military and the people of tribal areas. He said that suicide bombing do not belong to religion but it is instigated by foreign occupation. He said that the government in Pakistan is established by the virtue of NRO and American dollars. He said that Mian Nawaz Sharif is germinated by agencies and he received Rs 3.5 from ISI. He said that Mian Nawaz Sharif was protecting current government for last three years pretending to save the system. He said that Mian Nawaz Sharif congratulated Ann Peterson on the extension of Gen Kyani as COAS. He said that after NRO was declared illegal by SC mid term elections would have been announced. He said that the only solution of the problems of the country is mid term elections. He said that soon he is going to run "Remove the government and save the country" movement. He said that in the next election youth of the country will support PTI and will bring revolution in Pakistan
 
مولوی نواز شریف کی سوچ شکست کھارہی ہے، آج جرنیلوں سے نفرت اور سپاہی سے محبت کرنے والے کون ہیں، صدر زرداری
 
نوڈیرو(ٹی وی رپورٹ)صدر آصف علی زرداری نے نواز شریف کو مولوی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج انکی سوچ لوہار کی سوچ ہے، میرے خلاف سارے مقدمات نواز شریف نے بنائے، میں نے انہیں جیل میں ہی معاف کر دیا تھا، اداروں کو توڑنے کی باتیں صحیح نہیں ہیں وہ کس کے سیاسی وارث ہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں، میں تاریخ لکھنا چاہتا ہوں، کل کی سرخی لگوانا نہیں چاہتا ۔سیاسی اداکاروں کی ایک اداکاری ایک دن ختم ہوجائیگی، وہ وقت جلد آئے گا جب چینلز پر اداکار نہیں دانشور بیٹھیں گے۔ اداروں کا بچنا بڑا ضروری ہے،انہوں نے کہا کہ سیاسی اداکارو منفی پراپیگنڈہ بند کرو، بینظیر کے یوم ولادت پر گڑھی خدابخش میں ہونے والی تقریب سے خطاب کے دوران انتہائی جذباتی انداز ختیار کرتے ہوئے انہوں نے نواز شریف کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف سیکھیں کوئی استاد رکھ لیں، مجھے استاد بنا لیں ، بہت کچھ سکھا دوں گا خدانخواستہ پھر کبھی کسی نے جمہوریت کی بازی لپیٹی تو مولوی صاحب تم سے پھر سے پُھر ہوجاؤ گے،اور ہمیں شہید ہونے کیلئے چھوڑ جاؤ گے۔میرے 35 ہزار بچے مر گئے اور نواز شریف کہتے ہیں یہ ہماری جنگ نہیں، وہ ضیاء الحق کی سیاست کر رہے ہیں اس سوچ نے بینظیر کی جان لی اور اب یہ اداروں کو کمزور کر رہی ہے ۔لندن اور بھارت میں بجلی جاتی ہے تو وہاں کا میڈیا نہیں دکھاتا،مولوی نوا ز شریف کی سوچ شکست کھا رہی ہے ، آپ جرنیلوں سے نفرت اور سپاہی سے محبت کرنے والے کون ہوتے ہیں؟ہماری سو چ جیت رہی ہے میاں صاحب آپ کی سوچ شکست کھا رہی ہے کیوں کہ آپ اس سوچ کی پیداوار ہیں جس کے خلاف ہم لڑ رہے ہیں، اسی سوچ نے میری بیوی کو شہید کیا ہے،آج کچھ سیاسی بونے اور اداکار کہتے ہیں کہ ہم نے ایم کیو ایم ، ق لیگ اور دیگر پاکستانی جماعتوں سے الحاق کر لیا، میں نے مفاہمت کی کتاب پڑھی ہے جو میری قائد نے لکھی ہے اگر میں اپنی سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر چل رہا ہوں تو آپ کو کیوں تکلیف ہے۔ اگر آج کا فوجی یہ کہتا ہے کہ ہمارا پہلا دشمن ہمارے اندر ہے تو اس میں ان کے مولوی صاحب کو کیا تکلیف ہے، یہ کاغذ ی شیر ببر شیر اس وقت بنے جب ہم نے انہیں آنے دیا یہ لوگ کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں اور کس کی باتیں کر رہے ہیں، ان لوگوں نے جیلوں سے روتے ہوئے فریاد کی ہم نے انکی فریاد سنی، اگر میں نے لیاری کو کہہ دیا ہوتا کہ ضیاء الحق کی باقیات آئی ہے انہیں جانے نہ دینا تو تمہارا کیا حال ہوتا۔ انکو یہ باتیں یاد نہیں، ہم نے ان کو پنجاب پلیٹ میں رکھ کر دیا حالانکہ اس وقت کا ڈکٹیٹر ہمیں کہہ رہا تھا کہ زرداری چاروں صوبے تم لے لو لیکن مجھے مان لو میں نے کہا نہیں، اللہ فاروق لغاری کو لمبی عمر دیتا تاکہ وہ دیکھتا کہ جس پر اس نے ہر الزام لگایا وہ آج اس کی جگہ پر بیٹھا ہوا ہے ۔ آج یہ نادان فوج کے خلاف بول رہا ہے اسے نہیں معلوم کہ اسے آسانی کے ساتھ دو تہائی اکثریت دی جاتی رہی ہے، اور جب مشکل وقت آیا تو انہوں نے جمہوریت کیلئے قربانی دینے کے بجائے لکھ کر دیدیا، اور بے چارہ غوث علی شاہ مجھ سے یہ کہتا پھرتا تھا کہ مجھ بوڑھے کے لئے اتنے بڑے جہاز میں جگہ ہی نہیں تھی، اداروں پر ہونے والی تنقید کے پس منظر میں صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کو بچانے کے لئے اداروں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ یہ لوگ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہمارے جوان اور اعلی قیادت کو ایک دوسرے کے خلاف کرنا چاہتے ہیں یہ کم عقل نا معقول سیاستدان اس کا انجام نہیں سمجھتے۔ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ تمہاری دولت کہاں کہاں پڑی ہے، یہ تو ہاتھ کی میل ہے او! تم اس میل کی خاطر ملک کو نیلام کرنا چاہتے ہو۔پاکستان کو اس سوچ سے خطرہ ہے جس کے یہ مولوی صاحب پیروکا رہیں ہم اس سوچ کے خلاف جنگ کر رہے ہیں، میں آئینی طور پر صدر بنا آپ نے ہمارا مقابلہ کیا ہم نے برا نہیں مانا، ہم نے صوبوں کو خود مختاری دینے کے اقدامات کئے،بے نظیر کے یوم پیدائش پر ہم نے خون دینے کی بات اس لئے کی کہ پاکستان کی بقاء چاہتے ہیں، اور اپنی فورسز کے لئے اپنا لہو پیش کرتے ہیں، اور یہ کام وہی کر سکتا ہے جس کو اس دھرتی سے پیار ہو۔ آج ہم نے شہیدذوالفقار بھٹو کا کیس کامیابی کے ساتھ ری وزٹ کروایا ہے، بھٹو صاحب نے ایٹمی طاقت کا فلسفہ اس وقت پیش کیا جب وہ ابھی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وزیر تھے انہوں نے اس وقت نیو کلیرکا ایک چھوٹا سا پلانٹ دیا،ہم انہی کی سیاسی اولاد ہیں اور یہ لوگ کس کی پیداوار ہیں یہ بات سب جانتے ہیں، اسی طرح شہید محترمہ نے میزائل ٹیکنالوجی دی تاکہ پاکستان محفوظ ہو سکے۔پورا پاکستان بھٹو کا ہے ہمارے پاس ان کی امانت ہے، لیکن ان دوستوں اور مولویوں کوبھول جاتا ہے، ہمیں یہ معلوم تھا کہ 2008کے الیکشن فیئر نہیں تھا لیکن ہم پھر بھی گئے ہم ان کی چال سمجھ رہے تھے، سیاسی اداکاروں سے کہہ دو کہ میں انکی سرخیوں اور ٹی وی پروگراموں سے نہیں ڈرتا۔صدر آصف زرداری نے کہا کہ ہم فوج سے نہیں لڑیں گے، ہمیں معلوم ہے کہ پاکستان کو اصلی خطرہ کس سے ہے۔ پاکستان کو اصل خطرہ نواز شریف کے سیاسی پیر مرشد کی سوچ سے ہے جس نے ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کو شہید کیا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا سیاسی گرو کہتا ہے کہ یہ تو جیل نہیں کاٹ سکتے انہیں تو مچھر کاٹتے تھے۔ ان کا سیاسی گرو ہمیں "مردِ حُر" کا خطاب دیتا ہے اور نواز شریف کیلئے کہتا ہے کہ ان سے تو جیل نہیں کٹتی۔ صدر زرداری کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے بلاوجہ اپنا ذہن بنالیا کہ انہوں نے ایٹمی دھماکا کیا، ان کا اس سے کیا واسطہ، نہ تو ان کا بٹن تھا اور نہ ہی ان کی سوچ میں بات تھی اور نہ ہی ان کو سیاست سکھانے والے نے یہ سوچا تھا۔ یہ تو اس وقت کی ضرورت تھی کہ نواز شریف کو ایٹمی دھماکا کرنا پڑ گیایہ ان کی مجبوری تھی۔ صدر آصف زرداری نے کہا کہ خدارا رائیونڈ ،اپنی ہزاروں ایکڑ زمین اور اپنی ملوں کا نہیں پاکستان اور پاکستان کے غریب عوام کا سوچیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں سب کے سامنے جھکتا ہوں تو یہ میری کمزوری نہیں ۔ شیر بننے کا وقت تب تھا ابھی نہیں ہے۔ نواز شریف کے دل میں اگر عوام اور قوم کا درد ہوتا تو وہ پاکستان سے نہیں جاتے۔ ہمیں بھی باہر جانے کا راستہ دیا جارہا تھا مگر ہم نے نہیں لیا۔ صدر آصف زرداری نے کہا کہ خدا کا واسطہ ہے کہ اداروں کے خلاف مت بولو، اداروں کو توڑنے کی باتیں مت کرو۔ یہ سیٹھ جنہوں نے آج یہ مسخرہ پنا بنایا ہوا ہے۔ جو ایک سرمایہ دار ہے جس نے ٹیلی ویژن لیا ہوا ہے۔ جس سرمایہ دار کو دیکھیں وہ نیا چینل بنانے کی سوچ میں ہے ۔ کیونکہ اس سے ان کی طاقت بڑھتی ہے اور باہر سے پیسے ملتے ہیں۔ انہوں نے چینلز پر سیاسی اداکار بٹھائے ہوئے ہیں۔ صدر زرداری نے کہا کہ امریکا میں حادثات میں اتنے لوگ مرتے ہیں جتنی ان کی افغانستان میں لاشیں نہیں گرتی ہیں۔ وہ سی این این پر کیوں نہیں آتا؟ ہاں اگر کوئی بڑا واقعہ ہوجاتا ہے تو سی این این پر ضرور آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ جہاں درد ہوتا ہے وہ دکھانے چلے آتے ہو، کہیں کھیت بھی لہراتے دکھاؤ۔ سیاسی اداکاروں کبھی یہ بھی تو سوچوکہ 500بلین روپے غریبوں کے پاس پہنچا ۔کبھی یہ سوچا کہ پورے پاکستان میں سب سے زیادہ زمینیں ساڑھے بارہ ایکڑ والوں کی ہیں۔ صدر زرداری نے کہا کہ میں یہاں زمیندار طبقے کو بتاتا چلوں جن کو لوگ جی ایس ٹی سے ڈرا رہے ہیں کہ ساڑھے بارہ ایکڑ کے یونٹ پر جی ایس ٹی نہیں ہے، صرف مجھ جیسے بڑے زمینداروں پر جی ایس ٹی لاگو ہوگا جن کے کھاتے بڑے ہیں، جن کے پاس زمینیں زیادہ ہیں ان پر جی ایس ٹی ہوگا۔صدر زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب لوگ میرے خلاف سڑکوں پر آتے ہیں جب وہ میرے خلاف تقریریں کرتے ہیں یا آپ کی حکومت کے خلاف تقریری کرتے ہیں یونین ایکٹیویٹیز کرتے ہیں تو لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم ناراض ہو رہے ہوں گے، انہوں نے کہا کہ ہم کیوں ناراض ہو رہے ہوں گے۔ہم سمجھتے ہیں اس لئے تو رات کو ڈھائی بجے وزیر اعظم کو اٹھایا جاتا ہے اور 4بجے ہماری ہمارے منسٹرز جنرلسٹوں کے اندر بیٹھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کی ڈیمانڈ ہمیں قبول ہے اگرآپ سپریم کورٹ کا جج لگانا چاہتے ہیں تو لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کیوں جھکتی ہے اس لئے کہ وہ بھی جمہوری طاقتیں ہیں وہ بھی آئندہ آنے والی جمہوریت کی طاقت بنیں گے،ہم انسٹیٹیوشنز کو بننے دیں گے۔ صدر زرداری کا کہنا تھا کہ مجھے پتہ ہے کہ سب سے زیادہ وہاں سیاسی اداکار ہیں ایک دن اداکاری ختم ہوجائے گی ایک دن واقعی وہاں انٹلیکچول بیٹھیں گے۔ صدر زرداری نے کہا کہ میں نے کل رات کو ہی کے ٹی این پر ایکسپریس کا ایک شو دیکھا جو میں نے پہلے نہیں دیکھا تھا، بی بی صاحبہ پر اس نے کیا تھا، اس نے آج کل کے جو ہمارے مخالف ہیں ان کو سامنے بٹھایا ہوا تھا اور اس نے وہاں سے پکڑا ہے جہاں سے وہ چھڑوا نہیں سکتے۔ تو سیاسی اداکاروں کی ایک ادا یہ بھی ہے۔صدر زرداری کا کہنا تھا کہ اس کا انسٹیٹیوشنلائزیشن ہونا بہت ضروری ہے، انسٹیٹیوشنز کا بچنا بہت ضروری ہے۔ صدر زرداری کا کہنا تھاکہ اگر کبھی ضرورت پڑی اگر کسی نے جمہوریت کو کمزور کرنے کی کوشش کی تو مولوی صاحب آپ تو پھر اڑ جائیں گے پھر بھی ہمیں ہی مقابلہ کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی سوچ اور شہید بے نظیر بھٹو کی سوچ کا ایڈوانٹج لیتے ہوئے اس کی سوچ کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم آگے رفتہ رفتہ بڑھ رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ سب کو نوکری نہیں ملی ہے میں مانتا ہوں کہ سب کے ہاں یہ بجلی نہیں پہنچی ہے مگر یہ بجلی ختم کس نے کی تھی آج کیوں نہیں کہتے کہ جب بی بی نے40,000میگاواٹ سائن کئے تھے اور تمھیں پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر کہا تھا ،او ظالمو! اگر تمھیں ضرورت نہیں ہے تو انڈیا بھیج دو مگر لگنے تو دو۔آصف زرداری کا کہناتھاکہ اگر وہ بجلی کے کارخانے لگے ہوتے تو آج 14،14گھنٹے بجلی نہیں جاتی۔صدر زرداری کا کہنا تھا کہ میں سیاسی اداکاروں کو کہتا ہوں اور ان کے سیٹوں کو کہتا ہوں کہ انڈیا میں بجلی نہیں جاتی؟، آج میں آپ کو بتا دوں کہ لندن میں بھی بجلی کی کمی ہے مگر بی بی سی پر وہ خبر نہیں آتی،انڈیا میں بھی ہے مگر میڈیا کی وہ ضرورت نہیں بنتی وہ کہتے ہیں کہ ہم کیوں دنیا کو دکھائیں، صدر زرداری کا کہنا تھاکہ انڈیا کے بارے میں ایک پکچر بن گئی جس میں ان کی غربت کا ذکر آگیا اس پر پورے انڈیا نے دنیا میں شور ڈال دیا کہ اس فلم میں ہماری غربت کیوں دکھائی۔ صدر زرداری کا کہنا تھا کہ میں دعویٰ کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں کوئی بچہ بھوکا نہیں مرتا، انڈیا میں آج تک باوجود اس کے کہ وہ بڑا ملک ہے باوجود اس کے کہ وہ ہم سے امیر ہے آج بھی غریب لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔صدر زرداری کا کہنا تھا کہ ہمارا کلچر ایسا ہے کہ جب جنگ ہوتی ہے تو ہزاروں لوگوں کو ہم گھروں میں پناہ دیتے ہیں، اور ہمارے گھر کوئی مہمان آجائے تو غریب سے غریب آدمی مرغی کو کاٹ کر اسے پیش کرتا ہے یہ ہمارا کلچر ہے یہ دکھاؤ سیاسی اداکاروں، یہ باتیں کرو،چھوڑ دومنفی پروپیگنڈا، اس کا نقصان تمھیں ہی ہوگا اس کا نقصان ہمیں نہیں ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تو گیارہ گیارہ، سال بارہ بارہ سال جیلیں کاٹیں ہیں،ہم ہر قسم کی تکلیفیں دیکھ کر آئے ہیں ہم کسی اڑن کٹولے پر بیٹھ کر اقتدار میں نہیں آئے، پاکستان پیپلز پارٹی کو سہنے کی عادت ہے تھوڑا سا آپ بھی برداشت کرنا سیکھیں۔صدر آصف زرداری نے کہا کہ ہمارا منہ مت کھلوائیں۔ میں چوہدری نثار کی زبان میں کہتا ہوں جب اس کو جیل میں کسی نے طعنہ دیا تو اس نے کہا میرا منہ مت کھلواؤاور آج تک آپ نے ان کا منہ نہیں کھلوایا ہے اور مزے کی بات ہے کہ ان کا منہ آپ بند بھی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل تاریک نہیں ہے۔ سیاسی اداکاروں کی سوچوں پر مت جایئے۔ اگر ان کی عقل ہوتی تو یہ ہمارے ساتھ تھے، میں نے ان کے زمانے میں فائنانس منسٹر سے چھ میٹنگیں کی تھیں،ان سے پوچھ لیجئے گا کہ قیمت بڑھایئے گندم کی ورنہ آپ کو امپورٹ کرنی پڑے گی۔ انہوں نے چھ میٹنگوں میں میری بات نہیں مانی اور یہ ہوا کہ گندم شارٹ پڑ گئی ، دنیا میں گندم نہیں تھی۔ میں نے احتیاطاً چھوٹا چاول نہیں بھیجا کہ کہیں کموڈٹیز کی شارٹیج ہوگئی تو میں کیسے اپنی عوام کو خوراک پہنچاؤں گا۔ انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ اگر ہم نے اپنے زرعی طبقے کو آگے نہیں بڑھایا تو ہماری آنے والی نسلوں کی گروتھ کیسے ہوگی۔ میں نے سو سال آگے کی بات سوچ لی ہے اور انہیں بھولتا ہی نہیں کہ ان کو ہتھکڑی لگ گئی تھی۔ صدر آصف زرداری نے کہا کہ نواز شریف نے میری گردن کاٹی، زبان کاٹی ،مجھے جیلوں میں رکھااور سارے کیسز مجھ پر انہوں نے ہی بنائے لیکن میں نے انہیں جیل سے ہی معاف کردیا تھا۔ اس لئے کہ پیپلز پارٹی نے کبھی کوئی معاملہ ذاتی نہیں لیا۔ جنرل پرویز مشرف نے مجھے پانچ سال جیل میں رکھا جب یہ عیاشی کررہے تھے، مگر میں نے جنرل پرویز مشرف سے سیاسی مذاکرات کئے اور پھر دنیا سے بات کر کے اسے یہاں سے اس طرح نکالا کہ ہماری معیشت بھی چلتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ جس دن میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی میت اٹھا رہا تھا اگر اس دن میں کہہ دیتا کہ بچوں آپ گڑھی خدا بخش چلو میں آتا ہوں۔ اور میں ان سے کہتا کہ لے چلو صبح کو ، چلیں آپ پنڈی چلیں اور وہاں میں کھڑا ہو کر کہتا کہ میں اکیلی لاش نہیں اٹھاؤں گا شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی، میں دو لاشیں اٹھاؤں گا تو سول وار ہوتی۔ سول وار میں ہم لڑتے اور جیتتے۔ مگر وہ مولانا صاحب کی سوچ ہمارے ساتھ ملی ہوتی اور وہ مولانا صاحب کی سوچ کہ جب ہم نے ادارے سے جنگ کرلی ہوتی اور انہیں کمزور کردیا ہوتا تو اس کے بعد وہ آجاتے۔ اس لئے کہ ہم نے کبھی اپنے ورکروں کو یہ تربیت ہی نہیں دی ہتھیار اٹھاؤ، ہم نے اپنے ورکروں کو کہا ہے کہ جب ایسا وقت آجائے تو اپنی شہادت دیدو یہ ملک کی خاطر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اگر لوٹوں کو ساتھ ملالیں تو وہ صحیح ہے لیکن اگر ہم ان کے ساتھ قانونی معاہدہ کریں اور انہیں بطور پارٹی قبول کریں تو کہتے ہیں کہ آپ نے ایسے بندے لے لئے۔ اب وہ وقت نہیں رہا کہ جھوٹ سے بات کرنی پڑے۔ پورے پاکستان کو پتا ہے کہ اگر آج میں نے یہ قدم اٹھایا ہے تو آپ نے مجبور کیا ہے۔ ہم نے آپ کو آنکھوں پر بٹھایا ہوا تھا ، ہماری وجہ سے آپ زمینی خدا بنے ہوئے تھے اور آپ نے ہمیں دھتکار دیا، ان سے آپ نے لوگ توڑ لئے اور ہمیں کہتے ہیں کہ آپ نے غلط کیا۔ صدر زرداری نے کہا کہ جو اپنے بچے مروارہے ہیں، جن کی مسجدوں میں جاکر پہچان کر وہ شہید کرتے ہیں ان کا مذاق اڑانے کا آپ کو کیا حق پہنچتا ہے۔ نواز شریف اور طالبان کی سوچ ملتی ہے،یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کے قائد بن جائیں گے تو ایسا نہیں ہوگا۔ اگر وہ آئے تو وہ اپنا لیڈر لائیں گے اور اپنا پاکستان بنائیں گے جس میں نہ نواز شریف کی گنجائش ہوگی اور نہ ہی ہماری گنجائش ہوگی۔ نواز شریف تو پُھر کر کے اڑجائیں گے اور ہمیں شہید ہونے کیلئے چھوڑ جائیں گے اس لئے کہ شہید ہونا ہمارا ایمان ہے۔ ہماری تو سیاست ہی ایسی ہے کہ شہادت ہماری منزل ہے.

NADEEM MALIK ندیم ملک

NADEEM MALIK LIVE

NADEEM MALIK LIVE

Nadeem Malik Live is a flagship current affairs programme of Samaa.TV. The programme gives independent news analysis of the key events shaping future of Pakistan. A fast paced, well rounded programme covers almost every aspect, which should be a core element of a current affairs programme. Discussion with the most influential personalities in the federal capital and other leading lights of the country provides something to audience to help them come out with their own hard hitting opinions.


Blog Archive